نئی دہلی ،06؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) لوک سبھاالیکشن سے قبل دہلی میں جگہ جگہ ’اب نہ ہوگاناری پروار،اب کی بارمودی سرکار‘،کے سلوگن لگے ملتے تھے،لیکن تازہ حقائق کی روشنی میں کیایہ بھی ایک جملہ تھا؟ خواتین کے تحفظ کے لیے لاکھ دعوے کئے جاتے رہے ہوں، لیکن خواتین ملک کے دارالحکومت میں ہی محفوظ نہیں ہیں۔ اعداد و شمار تو کم از کم اسی طرف اشارہ کر تے ہیں۔دہلی پولیس کے اعداد و شمار پر توجہ دیں تو گزشتہ ساڑھے تین مہینوں میں دارالحکومت میں ہر دن پانچ سے زائد خواتین عصمت دری کا شکار ہوئی ہیں۔پولیس کا دعوی ہے کہ گزشتہ سال درج کئے گئے ریپ کے 96.63 فیصد معاملات میں ملزم متاثرہ سے واقف ہے یعنی زانی متاثرہ کو اور متاثرہ زانی کو پیش آمدہ زیادتی سے پہلے ہی ایک دوسرے کے جانتے تھے ۔ اعداد و شمار کے مطابق اس سال 15 اپریل تک ریپ کے 578 کیس درج کئے گئے ہیں ،جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 563 کیس درج کئے گئے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت درج کرانے میں آئی تیزی کی وج سے معاملہ سامنے آرہے ہیں ۔تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال چھیڑخانی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ سال 2017 میں 15 اپریل تک 944 واقعات درج کئے گئے تھے ۔ جبکہ اس سال اسی مدت میں 883 کیس درج کئے گئے ہیں۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2016 میں ریپ کی2,064 اور 2017 میں 2,049واقعات درج کے گئے تھے ۔ جبکہ 2016 میں4,035اور 2017 میں 3,273واقعات درج کئے گئے تھے ۔